مناظر

Wednesday, 31 July 2019

آزاد کشمیر الیکشن، کس کا پلڑا بھاری کس کا کمزور

سیدامجدحسین بخاری
آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو اس وقت پاکستان کے زیر انتظام ہے اور اس کا باقاعدہ نام ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے۔ یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد ہے جبکہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کی آبادی اندازاً 40 لاکھ ہے۔ آزاد کشمیر میں 10 اضلاع، 19 تحصیلیں اور 182 یونین کونسلیں ہیں۔ آزاد کشمیر کے اضلاع میں ضلع باغ، ضلع بھمبر، ضلع پونچھ، ضلع سدھنوتی، ضلع کوٹلی، ضلع مظفرآباد، ضلع میرپور، ضلع نیلم، ضلع حویلی اور ضلع ہٹیاں شامل ہیں۔
آزاد کشمیر میں قانون سازی اسمبلی کے انتخابات ہر 5 سال بعد کرائے جاتے ہیں۔ اِس سال قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے۔ گزشتہ روزچیف الیکشن کمیشن جسٹس غلام مصطفی مغل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات 21 جولائی کو ہونگے۔ 6 جون سے 16 جون تک امیدواروں کے کاغذات جمع ہوں گے، 17 کو اسکروٹنی اور 18 جون کو امیدواروں کی فہرست جاری کی جائے گی جبکہ 22 جون کو کاغذات کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔ 26 جون کو اپیلوں پر فیصلہ ہوگا اور 27 جون کو امیدوار کاغذات واپس لے سکیں گے اور 29 جون کو انتخابی نشانات الاٹ ہونگے۔ آزاد کشمیر کے 29 حلقوں میں 22 لاکھ 37 ہزار 58 جبکہ مہاجرین کے 12 حلقوں کیلئے 4 لاکھ 44 ہزار 634 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
گوکہ یہ انتخابات پاکستان کے حالات یا آزاد خطے کی تقدیر بدلنے کے لئے اتنے اہم نہیں ہوتے لیکن کشمیر میں انتخابات کا موسم آتے ہی ہر گھر، بازار، چوراہے اور گلی کوچوں میں سیاست پر بحث کی جاتی ہے۔ سیاسی طور پر اتنے باخبر ہونے کے باوجود بھی کشمیری عوام ابھی تک برادری اور اقرباء پروری کے حصار سے نہیں نکل سکے۔ ووٹ کا فیصلہ برادری کا سربراہ کرتا ہے۔ بڑی برادریاں الیکشن میں اپنا نمائندہ منتخب کراتی ہیں جبکہ چھوٹی برادریوں کو اپنی بقاء کے لئے ان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ جو برادری یا فرد بڑی برادریوں سے ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو داستان عبرت بنادیا جاتا ہے۔
کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے ہی وفاقی حکومت کے زیر اثر ہوتی ہے۔ وفاق میں جس جماعت کی نمائندگی ہو، اُسی سیاسی جماعت کی حکومت آزاد کشمیر میں قائم ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ وفاق میں براجمان سیاسی جماعت کا ٹکٹ حاصل کریں۔ بس پھر اِس مقصد کے لیے بولیاں لگائی جاتی ہیں اور جو سب سے زیادہ سرمایہ لگاتا ہے، ٹکٹ اسی کا مقدر ٹھہرتا ہے اور ظاہر ہے کہ وفاقی حکومت کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ قد آور سیاسی شخصیت کو ہی ٹکٹ جاری کیا جائے۔ خیر ابھی تو الیکشن کا اعلان ہوا ہے۔ چیف الیکشن کمیشن کے مطابق تمام تقرریوں، تبادلوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تمام بلدیاتی عہدے ختم کردئیے گئے ہیں اور بلدیاتی اداروں کا انتظام و انصرام بھی مقام اسسٹنٹ کمشنر چلائیں گے۔ سیاسی جماعتوں کو ڈویژن کی سطح پر ایک بڑا جلسہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ امیدوار 20 لاکھ تک انتخابی اور 5 لاکھ تک ذاتی اخراجات کرسکتے ہیں۔
انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ اب صورت حال یکسر بدل چکی ہے، پانچ سال تک اسمبلی میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے پیپلز پارٹی کے سیاستدان اب مسلم لیگ (ن) کی جانب للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں جبکہ ریاستی جماعت مسلم کانفرنس سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے کئی امیدواران اب اپنی ہمدردیاں ن لیگ کی جھولی میں ڈال چکے ہیں۔ تحریک انصاف بھی اس کوشش میں لگی ہے کہ کشمیر میں بھی اس کا منجن بک جائے، جس کے لئے اس نے کشمیر کونسل کے انتخابات پر کروڑوں روپے خرچ کرکے امیدوار خریدے، مگرعام انتخابات میں تحریک انصاف کے لئے ایسا کرنا ناممکن ہے۔ سلطان محمود چوہدری جو کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، انہیں اپنے پارٹی میں شامل کرکے تحریک انصاف پھولی نہیں سما رہی لیکن چوہدری صاحب کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنی دولت وہیں خرچ کی ہے جہاں سے انہوں نے دوگنا منافع کمایا ہے۔
آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ زیر بحث نو وارد سیاست دان مشتاق منہاس ہیں۔ جن کے وزیراعظم نواز شریف سے تعلقات ضرب المثل ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے کشمیر کے تمام دوروں میں مشتاق منہاس کو ساتھ لے کر گھومنا وہاں کے عوام کے لیے شاید مستقبل کا اشارہ ہوسکتا ہے۔ کشمیر کے عوام نے مشتاق منہاس کو وہاں کا وزیراعظم بھی تصور کرلیا ہے۔ لیکن یہ سب تخیلاتی باتیں ہیں اور ان کا وزیراعظم بننے کا خواب بھی مجھے تو دیومالائی داستان لگ رہا ہے۔ اس حلقے کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہاں سے آزاد کشمیر کے تین منجھے ہوئے سیاست دان الیکشن لڑ رہے ہیں، پیپلزپارٹی کے سردار قمرالزمان خان جو کہ یہاں سے کئی بار ممبر قانون ساز اسمبلی رہ چکے ہیں، جماعت اسلامی کے عبد الرشید ترابی اور تیسرے اہم امیدوار تحریک انصاف کے کرنل نسیم احمد خان مرحوم تھے۔ مگر کرنل نسیم کی وفات کے بعد اس حلقے میں برادری کے نام پر سیاست زور پکڑے گی اور وہی امیدوار جیتے گا جس کی برادری طاقتور ہوگی، لہذا اصل مقابلہ پیپلز پارٹی کے سردار قمرالزمان اور جماعت اسلامی کے عبد الرشید ترابی میں ہی ہوگا۔
دوسرا اہم حلقہ دھیر کوٹ کا ہے جہاں سے مسلم کانفرنس کے اکلوتے اور اہم رہنما سابق وزیراعظم سردارعتیق احمد خان الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس حلقے میں بھی کانٹے دار مقابلہ ہونے کی توقع ہے، جبکہ راولاکوٹ میں مقابلہ مسلم لیگ (ن)، جموں و کشمیر پیپلزپارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ہے۔ مگر جماعت اسلامی کا ووٹ بینک بھی یہاں کے نتائج پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ مظفرآباد نے کسی بھی دور میں آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم کردار ادا نہیں کیا۔ تاہم ہٹیاں بالا سے مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ فاروق حیدر کی کامیابی آزاد کشمیر کی سیاست کو نیا رنگ دے سکتی ہے۔ ضلع حویلی آزاد کشمیر کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرنے والا ضلع ہے۔
ضلع حویلی سے مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری محمد عزیز ایک مضبوط امیدوار ہیں اور ان کی جیت یقینی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے امیدواروں کے اعلان کے بعد مسلم لیگ کے 13، پیپلز پارٹی کے 6، مسلم کانفرنس کے 5، تحریک انصاف کے 2 جبکہ جموں و کشمیر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی ایک ایک نشست لے سکتی ہیں۔ تاہم چند ایک امیدواران اپ سیٹ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ مہاجرین کی نشستوں پر ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے مابین مقابلہ متوقع ہے جس کے بعد مسلم لیگ ن 7، تحریک انصاف 3 اور ایم کیو ایم 2 نشستیں حاصل کرسکے گی۔ تاہم مہاجرین کی نشستوں پر بھی اپ سیٹ متوقع ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو ہر دور میں یہ انتخابات خونی تصادم کی شکل اختیار کرتے رہے ہیں۔ برادریاں اپنی گردن بلند رکھنے کے لئے باقی برادریوں کی گردنیں اتارنے سے گریز نہیں کرتیں۔ گزشتہ انتخابات پر بھی کشمیر بھر کے انتخابات میں 14 کے قریب قیمتی انسانی جانوں کو زیاں ہوا جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئے۔ جیت ایک سیاسی جماعت یا ایک برادری کی ہوتی ہے مگر شکست انسانیت کو ہوتی ہے۔ ایک نشست کی خاطر عزتوں کی پامالی ہوتی ہے، تعلقات اور دوستیوں کی قربانیاں دی جاتی ہیں۔ بعض اوقات لڑائیاں اتنی سنگین ہوجاتی ہیں کہ ایک دوسرے پر پانی تک بند کردیا جاتا ہے۔ راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ آزاد کشمیر میں شرح تعلیم جتنی زیادہ ہے اس سے کہیں زیادہ یہاں کے رسوم و رواج اور روایات جہالت کی علامت ہیں۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے مگر یہاں برادری، اقرباء پروری ہی عزت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔
انتخابات کا اعلان ہوتے ہی لڑائی جھگڑوں کی ابتداء ہوگئی ہے۔ اس موقع پر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات کا انعقاد پُرامن اور شفاف بنایا جائے۔ ہندوستان سے آزادی کے وقت آزاد کشمیر کو بیس کیمپ بنانے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ اس خطے کو بنیاد بنا کر باقی ماندہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے راہ ہموار کی جائے مگر یہاں کشمیر کی مکمل آزادی کے لئے جدوجہد کرنا تو درکنار یہاں کے عوام اور سیاست دان اپنے اقتدار کو طول دینے اور برادری نظام کی بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ موجودہ الیکشن میں بھی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا۔ لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کو اپنے منشور میں شامل نہیں کیا۔ مضمون کی طوالت کے پیش نظر دیگر سیاسی معاملات کو یہاں قلمبند نہیں کیا جاسکتا تاہم آئندہ کسی مضمون میں ان کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Tuesday, 30 July 2019

!!! خدارا ’اللہ اکبر‘ کو دہشت گردی سے مت جوڑیں

سید امجد حسین بخاری
گزشتہ روز مانچسٹر کے ایک پر ہجوم شاپنگ مال میں برطانوی پولیس کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ڈرامائی مشقیں کی گئیں۔ مشقوں میں 800 کے قریب شہریوں نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا۔ پولیس نے رات گئے ان شہریوں کو شاپنگ مال میں بطور خریدار بھیجا جبکہ اس ڈرامے میں ایک خود کش بمبار بھی تیار کیا گیا جس نے شاپنگ مال میں گھس کر حملہ کرنا تھا۔ یہ ساری مشقیں ڈرامائی انداز میں کی جارہی تھیں اور پولیس کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مشقوں کا مقصد داعش کے حملوں سے بچنا اور ممکنہ حملے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لئے پولیس اور رضا کاروں کو تیار کرنا ہے، لیکن جب نصف رات گزرنے کے بعد سیاہ لباس میں ملبوس دہشت گرد شاپنگ مال کی فوڈ کورٹ میں داخل ہوتے ہی ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بلند کرتا ہے اور دھماکہ ہوجاتا ہے۔ جس کے بعد فورٹ کورٹ میں دھواں بھر جاتا ہے اور موقع پر پہنچنے کے بعد ایکشن شروع کردیتی ہے، اِس موقع پر نقصان سے بچنے کے لیے تمام رضا کاروں نے آنکھوں اور کانوں کے لئے حفاظتی آلات پہنے ہوئے تھے۔

اب یہاں میں اِس بلاگ کے قارئین کو بتاتا چلوں کہ یہاں یہ مشق ختم نہیں ہوئی بلکہ مشقیں تو کئی روز تک جاری رہیں گی، جن کے مقام اور اوقات کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا گیا تاہم گزشتہ روز مانچسٹر کے شاپنگ مال میں ہونے والی اس ڈرامائی ریہرسل میں باضابطہ طور پر میڈیا کو بھی مدعو کیا گیا تھا جس کے ذریعے براہ راست نشریات کا اہتمام کیا گیا۔ اِس موقع پر ایک اور اہم بات بھی یاد رہے کہ یہ واقعہ لندن کے نو منتخب مئیر پاکستانی نژاد برطانوی مسلمان جناب صادق خان صاحب کی تقریب حلف برداری کے محض تین دن بعد پیش آیا۔
دہشت گردی سے بچنے کا تو بہرحال تمام ممالک کو پورا پورا حق ہے، بلکہ اگر کوئی ملک اپنے شہریوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے ایسا نہیں کرے تو حیرانی ہونی چاہیے، لیکن اِس دہشت گردی کو جب کسی مذہب سے جوڑ دیا جائے تو یہ قابل افسوس امر بن جاتا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
اللہ اکبر، درحقیقت اللہ سبحان و تعالیٰ کی واحدانیت اور کبریائی کا اعلان ہے، کسی بھی مسلمان کے لئے اللہ کی ذات ہی بڑائی کی حقدار ہے، خودکش حملہ آور کی زبان سے ’اللہ اکبر‘ کا اعلان کروا کر درحقیقت اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور کبریائی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک طرف مغرب صادق خان کو منتخب کرکے پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہاں کا معاشرہ برابری اور بردباری کی علامت ہے لیکن دوسری طرف جعلی خود کش حملہ آور کے اس ڈرامہ کے درپردہ مسلمانوں اور اسلام کی تحقیر اور تذلیل کی جارہی ہے۔
مغربی  میڈیا پر آرٹیکلز اور رپورٹس پڑھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ مغرب میں ایک بار پھر مسلمانوں کے  خلاف معتصبانہ رویہ پھیلایا جارہا ہے اور مغرب کے اس پروپیگنڈے سے تمام دنیا بالعموم اور مسلمان بالخصوص متاثر ہو رہے ہیں۔ مجھے مغرب کے اس دہرے معیار پر حیرت قطعاً نہیں ہو رہی، کیونکہ مسلمانوں میں سے جو نمائندہ منتخب کیا گیا اس نے اپنی حلف برداری کی تقریب چرچ میں منعقد کرانے کا اعلان کیا۔ ویسے تو ہمیں یہ اعتراز بھی نہیں کہ چرچ میں یہ تقریب کیوں ہوئی، لیکن اعتراض اِس بات پر ضرور ہے کہ چرچ میں یہ تقریب اس لیے منعقد ہوئی کہ دنیا کو یہ پیغام نہ جائے کہ وہ شدت پسند مسلمان ہیں اور صرف اپنے مقامات کو اہمیت دیتے ہیں۔
حالیہ انتخابات میں مسلمانوں کے لئے امیدوار کا چناؤ یقیناً ایک اہم مرحلہ تھا، اِس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوئے اور کتنے ناکام یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اِس مرحلے میں بات اس لیے نہیں کروں گا کہ ابھی اصل مقصد مانچسٹر واقع پر بات کرنے کا ہے۔ اگر اِس حوالے سے میری رائے مانگی جائے تو میں یہی کہوں گا کہ یہ دہشت گردی کے خلاف ڈرامائی مشق تربیت کے لئے نہیں بلکہ خاص اس مہم کا حصہ تھی جس میں مسلمانوں کو بدنام کیا جائے۔ خود کش بمبار سے ’اللہ اکبر‘ کی صدا بلند کرانا  اور مقامی اور بین الاقوامی میڈیا پر اس کی براہ راست کوریج کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ مسلمانوں کو بدنام کیا جائے۔ مسلمان توعالمی امن کا علمبردار ہے۔ نہ تو کوئی بھی مسلمان ایسی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا حامی ہے اور نہ ہی انہیں اچھا سمجھتا ہے جن میں معصوم اور بے گناہ انسانوں کی جان جائے۔ لیکن مغرب کی جانب سے بارہا ایسا پروپیگنڈا ناقابل فہم ہے۔
جناب عالی! دہرہ معیار نفرتوں کو فروغ دیتا ہے۔ یہ احساس کمتری کا باعث بنتا ہے جو تشدد پر ابھارتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا رہے تو پھر حقوق کی جنگ ایک میز، چائے کی چسکیوں اور تسلیوں کے منجن تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ جنگوں کے ایک لامتناہی سلسلے کی بنیاد بنتی ہے، یہ دہرا معیار ہی بغاوت کی بنیاد بنتا ہے، اسی وجہ سے دلوں میں موجود غیض و غضب قہر کی صورت اختیار کرتا ہے۔ مغرب کو جو احباب اپنا ہمدرد مانتے ہیں تو ان سے عرض ہے کہ صاحبان مغرب تو اپنے مفادات کے حصول کے لئے آپ کا ہمدرد اور غم خوار بن رہا ہے، القاعدہ کے نام پر سبکی اُٹھانے کے بعد ایک نیا مہرہ داعش کی صورت میں دریافت کرکے اسے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے، جی ہاں مغرب کبھی بھی مسلمانوں کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے نہیں لائے گا۔
مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کے لئے کبھی شان رسالت میں گستاخی کی جاتی ہے تو کبھی مقدس مقامات کی بے حرمتی کی صورت میں نفسیاتی تشدد کا حربہ آزمایا جاتا ہے۔ حالیہ واقعے میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے جہاں مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے گئے وہاں پوری دنیا کو واضح پیغام دیا گیا کہ مسلمان صرف دہشت گرد ہیں، یہ دہشت گردی اُن کے سوا کوئی اور کرتا ہی نہیں۔ حالانکہ پورے یورپ اور امریکہ کے تعلیمی اداروں، سینما ہالوں، شابنگ مالز اور دیگر عوامی جگہوں پر نسلی جھگڑے رونما ہوتے ہیں۔ سیاہ فام امریکی ہتھیاروں سے لیس درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، اپنی گرل فرینڈ کی بے وفائی کا بدلہ لینے سفید فام شخص سیاہ فاموں کی تقاریب میں اندھا دھند فائرنگ کردیتا ہے، حالانکہ ان میں سے کسی بھی واقع کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ امریکا ہی ہے جو عوامی مقامات پر فائرنگ کے واقعات میں سب سے اوپر ہے، پھر جب کسی بھی حملے کے پیچھے مسلمان نہیں نکلتا تو چند لمحے کی خبر نشر ہوتی ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ حملہ کرنے والا ذہنی مریض تھا جس نے دماغی طور پر مفلوج ہو کر یہ انتہائی اقدام اُٹھایا۔ یہی یورپ اور امریکا ہے جہاں خواتین کی عصمت دری کے درجنوں واقعات رونما ہوتے ہیں، چوری کی واردتیں تسلسل سے کی جارہی ہیں مگر ان میں ملوث افراد کو ان کا ذاتی فعل قرار دیا جاتا ہے۔ اگر کسی مجرم کا نام مسلمانوں سے ملتا جلتا ہو تو مغربی میڈیا بال کی کھال ادھیڑ کر دم لیتا ہے۔ ہم بہت زیادہ دور کیوں جائیں، یہ تو آج ہی کا واقعہ ہے جب ایک فرد نے جرمنی میں ریلوے اسٹیش پر چاقو کے وار سے ایک شخص کو قتل اور باقی تین کو زخمی کردیا، اور چونکہ وہ مسلمان نہیں تھا اس لیے اُس کو ذہنی مریض اور نشے کا عادی قرار دے دیا گیا۔
بہرحال مغرب کی جانب سے مسلمانوں میں جو نفرتوں کے بیج بوئے جارہے ہیں ان کی فصل اور اس کے اثرات انتہائی بھیانک ثابت ہوسکتے ہیں۔ مغربی میڈیا کو اپنا متعصبانہ رویہ ترک کرکے برابری کی بنیاد پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی بجائے ان سے پیار و محبت، امن و رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دنیا امن کا گہوارہ ثابت ہوسکے۔ نیز اس بات کا خیال بھی رکھا جائے کہ گنتی کے چند لوگوں کو بنیاد بنا کر اکثریت کے حوالے سے رائے قائم کرنے کے رویے کو بھی ترک کیا جانا چاہئے۔ اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ جو کھیل کھیلا گیا ہے اس پر سرکاری سطح پر معافی مانگی جانی چاہیے اور جو افراد اس گھناؤنے فعل میں ملوث پائے جاتے ہیں انہیں قرار واقعی سزا دے کر پوری دنیا کے لئے مثال قائم کی جائے۔

کچھ ذکر اپنی ’شہ رگ‘ کشمیر کا

سیدامجدحسین بخاری
مقبوضہ کشمیر کے شمال میں تحصیل ہندواڑہ ہے، جہاں شرح تعلیم 78 فیصد ہے، تعلیمی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ خاصے باشعور ہیں۔ چند روز قبل اس تحصیل میں اچانک فسادات پھوٹ پڑے، آزادانہ ذرائع سے دستیاب معلومات کے مطابق مقامی اسکول کی طالبہ کے ساتھ ہندوستانی فوجی افسر کی جانب سے دست درازی اور عصمت دری کے واقعے کے بعد سینکڑوں نوجوان سڑکوں پر آگئے اور ہندواڑہ چوک میں قائم فوجی بنکر کی طرف مارچ کرنے لگے۔ فوج نے مشتعل نوجوانوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 نوجوان جاں بحق ہوگئے جس کے بعد حالات خراب سے خراب ہوتے گئے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جس نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال پیدا کی ہو، بلکہ اس سے قبل 31 مارچ کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بھارت کی شکست پر کشمیر میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) کے طلبہ نے جشن منایا جس پر این آئی ٹی میں زیر تعلیم دیگر غیر ریاستی طلبہ نے کشمیریوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کردیا، جس کو بھارتی میڈیا نے خوب اچھالا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہندو قوم پرست رضا کار تیجندر بھگا نے ’این آئی ٹی سرینگر چلو‘ کی کال دے دی۔
فلم ساز اشوک پنڈت اور فلم اداکار انوپم کھیر اسی مارچ کے سلسلے میں جب سرینگر ائیرپورٹ پر اترے تو انہیں پولیس نے حراست میں لے لیا اور اگلی پرواز میں واپس دہلی بھیج دیا۔ بات یہاں تک رہتی تو شاید اس پر قابو پایا جاسکتا ہے، وادی کشمیر اور جموں میں موجود بین الاقوامی نشریاتی اداروں سے وابستہ اور دیگر غیر جانبدار صحافیوں سے دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت پورے بھارت میں کشمیری طلبہ کے خلاف پرتشدد واقعات اور زہریلا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ کئی طلبہ و طالبات کا بھارت کی دیگر یونیورسٹیز سے اخراج بھی کردیا گیا ہے اور درجنوں بھارتی شدت پسندوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں۔
اس وقت مقبوضہ ریاست میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ ہندواڑہ میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف وادی کشمیر بدستور سراپا احتجاج ہے جس کے پیشِ نظر جمعرات کو دوسرے روز بھی سرینگر کے 6 تھانوں کے ماتحت آنے والےعلاقوں کے ساتھ ساتھ ہندواڑہ، کپواڑہ، کرالہ گنڈ، ماگام، لنگیٹ اور دیگر ملحقہ مقامات پر سخت ترین کرفیو میں وادی کے شمال و جنوب میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں اور بازاروں میں ہو کا عالم رہا۔ اس دوران بانہال اور بارہ مولہ کے درمیان چلنے والی ریل سروس بھی بند رہی۔
12 اپریل کو فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت 3 افراد اور 13 اپریل کو درگا مولہ کپواڑہ میں آنسو گیس شیل لگنے سے ایک نوجوان کے جاں بحق ہونے کے بعد پوری وادی میں غم وغصے کی لہر دوڑ پڑی۔ 12 اپریل کو کشمیری طلبہ کو ہراساں کرنے کے خلاف ہڑتال کی گئی اور اسی روز ہندواڑہ میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جبکہ قصبہ اور اس کے گرد و نواح کےعلاقوں کی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔
ان علاقہ جات میں امن و قانون برقرار رکھنے کیلئے پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں اور 14 اپریل کو مسلسل دوسرے روز بھی کرفیو کی سخت پابندیوں کے باعث بیشتر آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی۔ سری نگر میں مقیم صحافیوں سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہندواڑہ قصبے کے ساتھ ساتھ کرالہ گنڈ، ماگام، کولنگام، لنگیٹ اور قاضی آباد کے بعض علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کرفیو سختی کے ساتھ جاری رہا۔ پابندیوں کے باوجود مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد جاں بحق افراد کے گھر تعزیت کیلئے پہنچی۔
اس دوران قصبہ ہندواڑہ میں صورتحال اُس وقت بگڑ گئی جب مشتعل نوجوانوں کی ٹولیوں نے کرفیو کی پرواہ کئے بغیر گھروں سے باہر آکر بھرپور احتجاجی مظاہرے شروع کئے اور آزادی اور پاکستان کے حق اور بھارتی فوج کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے قصبہ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے وہاں پہلے سے ہی بڑی تعداد میں تعینات پولیس و فورسز اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج شروع کردیا۔ پولیس و فورسز کی اس کارروائی پر مشتعل ہوکر نوجوانوں نے سیکورٹی اہلکاروں پرپتھراؤ کیا، جس کے جواب میں پولیس اور آرمی نے آنسو گیس کے گولے برسائے جس کے نتیجے میں ہندواڑہ قصبہ کی نواحی بستیوں اور کالونیوں میں زبردست خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی۔
بھارتی فوج کی جانب سے ان علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی کو یقینی بنانے کیلئے ہر گلی اور کوچے میں خاردار تار نصب کی جاچکی ہے۔ اس دوران لالپورہ لولاب اور ملیال کرالپورہ میں مقامی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر الحاق پاکستان اور آزدی کے حق میں ایک پرامن احتجاج کیا، مظاہرین مطالبہ کررہے تھے کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس وقت سری نگر اور دیگر علاقوں میں سوشل میڈیا پر کشمیری نوجوانوں کے ردعمل کے باعث بھارتی فوج نے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عائد کردی، جس کے باعث وہاں موجود صحافیوں اور نوجوانوں کو دیگر دنیا سے رابطے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بھارتی فوجی کی بربریت کا شکار طالبہ پولیس کی حراست میں ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور صحافیوں کو مذکورہ طالبہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔ طالبہ کے ساتھ ہونے والے واقعہ کے سبب ہندوستان کی دیگر جامعات میں زیر تعلیم طلبہ خوف وہراس کی وجہ سے محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور بھارتی سرکار انہیں سیکورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔
دوسری جانب ہندوستانی میڈیا کشمیری طلبہ کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کر رہا ہے جبکہ بھارتی قوم پرست سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری طلبہ کے خلاف پورے ملک میں ایک مہم چلا رہے ہیں۔ لیکن پوری وادی میں خوف اور سراسیمگی کی فضاء کے باوجود کشمیری اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، اور نڈر ہوکر ہندوستانی فوج کی بربریت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں ملنے والی اجتماعی قبریں، ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ نوجوان اور روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کا قتل عام دنیا کے منصفوں اور عالمی امن کے ٹھکیداروں کو چیخ چیخ کر اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے، مگر تاحال ان کی شنوائی نہیں کی جارہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکومت کشمیریوں کی حمایت میں آواز بلند کرے اور اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمں اور سنجیدہ حلقوں کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب متوجہ کرائے۔

پ سے پڑھائی نہیں، پ سے پیسہ

سیدامجدحسین بخاری
گزشتہ روز ملک بھر کے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی جانب سے تعلیمی اداروں کو احتجاجاََ بند کردیا گیا، جس کی وجہ پنجاب ایجوکیشن اتھارٹی بل کی منظوری بتائی گئی۔ گزشتہ سال بھی نجی تعلیمی اداروں نے ٹیکس میں اضافے کا بہانہ بنا کر اپنے اداروں کی فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا۔ ملک بھر میں والدین سڑکوں پر آگئے، مگر حکومت کے اعلان کے باوجود والدین کی شنوائی نہیں ہوئی۔

آئینِ پاکستان کی رو سے تعلیم ہر شہری کا حق ہے اور سرکار اس کی پابند ہے کہ شہریوں کو تعلیم کی مفت سہولیات پہنچائے مگر آئین کی باقی تمام شقوں کی طرح یہ شق بھی بس کاغذ کے پلندوں میں دفن ہے۔ نجی تعلیمی ادارے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں، ہر گلی میں آپ کو ایک تعلیمی ادارہ مل جائے گا۔ یہی نہیں ایک فرد کئی کئی تعلیمی اداروں کا مالک ہے، یہ نجی تعلیمی ادارے عام شہریوں کی جیبوں پر قینچیاں چلا رہے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی خراب کارکردگی کی وجہ سے شہری اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں بھیجنے پر مجبور ہیں، جس کا یہ کاروباری افراد بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اس مسئلے پر مزید بات کرنے سے پہلے اس بل پر چند شقیں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں، یکم فروری کو پنجاب اسمبلی میں پرائیویٹ ایجوکیشن بل پیش کیا گیا۔ جس کے مطابق 17 ممبران پر مشتمل کمیشن بنایا جائے گا جو لاہور اور پنجاب کے تمام نجی تعلیمی اداروں میں فیسیں بڑھائے جانے اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور دیگر معاملات کا جائزہ لے کر ایک نیا فیس اسٹرکچر بنائے گا۔ یہ بل اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد 26 فروری کومنظور کرلیا۔ اس بل کے مطابق
  • نجی تعلیمی ادارے از خود فیسوں میں اضافہ نہیں کرسکیں گے۔
  • فیسوں میں معقول اضافہ کے لئے تعلیمی سال کے آغاز سے کم از کم 3 ماہ قبل رجسٹریشن اتھارٹی کو درخواست دی جائے گی۔
  • تعلیمی ادارے والدین کو کسی بھی خاص مقام سے یونیفارم، نصابی کتب اور دیگر مواد خریدنے کا پابند نہیں کرسکیں گے۔
  • رجسٹریشن اتھارٹی نجی تعلیمی ادارے کو فیس میں معقول اضافہ کی اجازت دینے کی مجاز ہوگی۔
  • نجی تعلیمی ادارے سابقہ تعلیمی سال کے دوران وصول کردہ فیس کے پانچ فیصد سے زائد اضافہ نہیں کرسکیں گے۔
  • فیس اسٹرکچر 2016ء میں بھی وہی ہوگا جو 2015ء میں تھا۔
  • رجسٹریشن کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو20 ہزار یومیہ جرمانہ ہوگا۔
  • اگر 30 روز تک اس امر پر عمل نہیں کیا جائے گا تو تعلیمی ادارے پر 20 لاکھ کا جرمانہ عائد کیا جائےگا۔
بس اِس بل کا اسمبلی سے منظور ہونا تھا اور نجی اسکولوں کے مالکان ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔ میڈیا رپورٹس اور پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے مطابق ایک لاکھ سے زائد نجی اسکول دو دن تک بند رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب تعلیمی اداروں میں بچوں کے امتحانات ہو رہے ہیں، جبکہ میٹرک اور مڈل بورڈز کے امتحانات بھی جاری ہیں۔
اِس بندش سے لاکھوں بچوں اور ان کے والدین کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا گیا۔ ایک لاکھ تعلیمی ادارے جن میں اے کلاس نجی تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں جو پہلے ہی طرح طرح کے بہانوں کے ذریعے فیسیں وصول کرکے والدین کو لوٹ رہے رہے ہیں، جبکہ ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جو تین کمروں کے گھر میں اپنی دکان سجائے بیٹھے ہیں۔ حکومت کی جانب سے آرڈیننس آنے کے بعد والدین میں خوشی کی ایک لہر دوڑی تھی مگر، تعلیمی اداروں کے مالکان کی جانب سے احتجاج نے ساری خوشیوں اور امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ہمارے ملک میں علم کے نام پر پیسہ بٹورنے والے اداروں نے تعلیمی ڈھانچہ کو انتہائی تباہ کن حالات تک پہنچا دیا ہے۔
ان میں سے اکثریت نے ایک مافیا کا روپ دھار لیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اپنے بچے تو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں، اور یہ خود دوسروں کے بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی چال میں مگن ہیں۔ آج تک ان لوگوں کا احتساب کرنے کے لئے کسی ادارے کے قیام کو عمل میں نہیں لایا گیا۔ یہ لوگ عوام سے ان کے منہ سے نوالہ بھی چھیننے کو تیار ہیں۔ ان پرائیویٹ اسکولوں کی حالت یہ ہے کہ یہ کم تنخواہ پر نااہل اساتذہ بھرتی کرتے ہیں جو بچوں کے بنیادی تصورات کو اچھی طرح سمجھا نہیں پاتے، جس کی وجہ سے بچے امتحانات میں ناکام ہوجاتے ہیں۔
ان حالات میں اپنے اسکولوں کی ناکامی کو منظرِعام پر آنے سے بچانے کے لئے یہ ناکام ہونے والے طلباء کو مختلف حیلوں، بہانوں سے تنگ کرکے اپنے اسکولوں سے فارغ کردیتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر ایک ایسا زرق برق کاروبار شروع ہوگیا ہے کہ ہر اسکول اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر ثابت کرنے کے لئے مارکیٹینگ کر رہا ہے اور اس دوڑ میں تعلیم برائے مشن کے دعویدار کئی نامی گرامی اسکول شامل ہوگئے ہیں۔ اونچی دکان پھیکا پکوان کے مصداق بھاری فیسیں وصول کی جارہی ہیں، حتیٰ کہ سی سی ٹی وی کیمروں، خاردار تار، اضافی سیکورٹی اور دیگر متفرق اخراجات بھی طلباء کے والدین سے وصول کئے جاتے ہیں اور حال یہ ہے کہ شام کو اکیڈیمیز کے بغیر بچے پاس نہیں ہوسکتے۔
اب دو دن اسکول بند رکھنے کے بعد ایک ہفتے کے لیے اسکول کھولنے کا اعلان کردیا گیا ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اِس بل کو واپس نہیں لیا گیا تو اسکولوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا جائے گا۔ اِس لیے اب والدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کے خلاف حکومت کے اقدامات کا ساتھ دیں، کیوںکہ کاروباری افراد تعلیم کے نام پر اپنے کاروبار کو بڑھانے میں مصروف عمل ہیں۔

صحافت کا ناز ہم سے بچھڑ گیا!

سیدامجدحسین بخاری
سبِ معمول روز مرہ کے امور سرانجام دینے کے بعد ٹی وی چینل پر نو بجے کا خبرنامہ دیکھ رہا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی، تیمور خان کا فون تھا اس نے خبر سنائی بخاری صاحب، ڈاکٹر احسن اختر ناز صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔ فوری طور پر شیخ زید اسپتال پہنچو، مجھے ایک جھٹکا سا لگا، ایک لمحے کے لئے ہاتھ پاوں ساکت ہوگئے اور چند صحافی دوستوں کو مطلع کرتے ہوئے اپنے ایک اور محبوب استاد عبدالمجید ساجد کے ہمراہ شیخ زید اسپتال کی جانب چل پڑا۔ راستے میں ناز صاحب کے ساتھ گذارے لمحے ایک فلم کی مانند گھومنے لگے۔

سر! امجد حسین بخاری نام ہے اور ماہنامہ ہم قدم کا مدیر ہوں، میں نے اپنا تعارف کرایا، ناز صاحب نے جواباََ مسکراتے ہوئے کہا کہ اللہ معاف کرے ہم قدم پر بھی یہ دور آنا تھا جو تم اس کے مدیر بن گئے۔ ناز صاحب کے ساتھ یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعارف مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ ادارہ علومِ ابلاغیات میں داخلے کے وقت میرا فارم بوجوہ تاخیر سے جمع ہوا۔ پاکستان کی ایک نامور جامعہ کے بہترین شعبہ میں داخلہ لینا، یقیناً خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ میں ناز صاحب کے پاس گیا ان سے اپنا مسئلہ بیان گیا ایک لمحے میں متعلقہ کلرک کو مسئلہ حل کرنے کا کہا اور میں ادارہ علومِ ابلاغیات کا باقاعدہ طالب علم بن گیا۔
جامعہ پنجاب سے ایم ایس ای جرنلزم کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کے لئے چین جانے کا پلان ہوا۔ مشاورت کے لئے ناز صاحب کے پاس پہنچا، پیار اور محبت کے ساتھ اپنے پاس بٹھایا۔ مستقبل کے پلان پر سیر حاصل گفتگو کی، پی ایچ ڈی کا منصوبہ انہیں بتایا خوشی کا اظہار کیا اور ریسرچ پلان مجھے بنا کردیا۔ اس ملاقات کے چند روز بعد ان کے بیٹے ابو ذر کا فون آیا اس نے بتایا کہ ابا جان کی شوگر بڑھ گئی ہے اور وہ شیخ زید اسپتال کے النیہان وارڈ میں داخل ہیں اور ڈاکٹرز نے ان کی ٹانگ کاٹ دی ہے۔ عبد المجید ساجد اور باقی صحافی دوستوں کے ہمراہ عیادت کے لئے پہنچا اور ان سے ملاقات کے وقت اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پایا۔ انہوں نے سینے سے لگایا اور کہا کہ ’’بیٹا! آنسو بہت قیمتی ہوتے ہیں انہیں سنبھال کر رکھو‘‘۔
ناز صاحب کے ساتھ گزارے گئے لمحات پر اگر تحریر کروں تو ایک طویل وقت درکار ہے، اور الفاظ کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ ہے، انہیں ڈاکٹرز نے مرغن کھانوں سے منع کیا ہوا تھا۔ جب کبھی گھر والوں سے چھپ کر انہیں کھانا کھانا ہوتا تو رابطہ کرتے، کسی اچھے ہوٹل میں مرغن کھانے جی بھر کے ان کے ہمراہ کھاتا رہا۔ ڈاکٹر افتخار کھوکھر دعوہ اکیڈمی میں شعبہ بچوں کے ادب کے انچارج روایت کرتے ہیں کہ بطور مدیر ھم قدم ایک دن ڈاک کی پڑتال کے دوران انہیں ایک خط سے واسطہ پڑا جس میں ’ھم قدم‘ کی تحسین کی گئی تھی۔ خط تو اچھا تھا ہی، خوش خط بھی تھا یعنی ہینڈ رائٹنگ بہت جاذبِ نظر تھی۔ رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ نوجوان ’اتحاد کیمیکلز‘ کالا شاہ کاکو میں لیبارٹری اسسٹنٹ ہے اور ایک خوددار، غیرت مند انسان کی طرح پرائیویٹ طالبعلم کی حیثیت سے بی اے کے امتحان کی تیاری کررہا ہے۔ مدیر ہم قدم نے محبت، تعریف اور حوصلہ افزاء کا وہ تیر بہدف نسخہ آزمایا جو نہ جانے کتنے نوجوانوں کی کایا پلٹنے کا باعث ہوتا آیا ہے۔ وہ نوجوان پہلے اس منفرد اجتماعیت کے تاریخی مجلّیکی ادارتی ٹیم میں شامل ہوا اور پھر علم، قلم، تحریر اور تدریس سے اسطرح جُڑا کہ پاکستان کی قدیم ترین جامعہ کے شعبہ ابلاغیات کی سب سے بڑی مسند پہ جا براجمان ہوا۔
اس راہ میں مشقِ سخن اور چکی کی مشقت کے متعدد کٹھن مقام آئے اور مقام فیض کو راہ میں جچا ہی نہیں کے مصداق نہ جانے کتنے نشیب و فراز عبور کرنے کے بعد آج اس کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا۔ احسن اختر ناز اِسی کا نام تھا جسے اُس کے ہزاروں چاہنے والے منوں مٹی تلے سُلا آئے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے جب طلبہ یونین پر پابندی عائد کی تو ناز صاحب کو بھی پابند سلاسل کردیا گیا۔ زمانہ طالب علمی کی تربیت اور تعلیمی اداروں میں جمہوریت کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ہی اثر تھا کہ ڈاکٹر احسن اختر ناز کسی بھی آمر کے سامنے نہیں جھکے اور نہ ہی کوئی انہیں خرید سکا۔
عملی زندگی میں ابتدائی طور پر جامعہ کے پبلک ریلیشنز آفیسر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ بعد ازاں 1993ء میں بطور لیکچرار شعبہ ابلاغیات جامعہ پنجاب سے وابستہ ہوگئے۔ 2009 میں انہوں نے شعبے کے سربراہ کی نشست سنبھالی، ان کی قیادت میں شعبہِ ابلاغیات نے ترقی کی کئی منازل طے کیں۔ ڈاکٹر ناز نے 2007 میں جرمنی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہیں صحافتی اخلاقیات اور قوانین پر عبور حاصل تھا، انہوں نے ان موضوعات سمیت کئی صحافتی امور پر تحقیقی مقالے لکھے اور وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ جنہیں درسی کتب کا درجہ دیا گیا۔ انہوں نے بہت سی بین الاقوامی و قومی کانفرنسوں میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی بھی کی۔ ڈاکٹر ناز بحیثیت کالم نگار روزنامہ پاکستان سے بھی وابستہ تھے۔
جامعہ میں تدریس کے دوران وہ ہمیشہ جامعہ پنجاب کی انتظامیہ کے نشانے پر رہے۔ ہر دور میں انکوائریاں اور دھمکیاں ان کا پیچھا کرتی رہیں، مگر ناز صاحب کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکے، ایک واقعہ انہوں نے خود بیان کیا کہ’’ایک بار یونیورسٹی انتظامیہ نے ادارہ علوم ابلاغیات کے اس وقت کے منتظمین کے ساتھ مل کر مجھے معطل کردیا۔ میں نے اس وقت کو قیمتی جانا اور ریسرچ آرٹیکل لکھنا شروع کردئیے۔ جب بین الاقوامی جرنلز میں تواتر کے ساتھ میرے آرٹیکل شائع ہونا شروع ہوئے تو انتظامیہ کو خطرہ لاحق ہوا، اور مجھے دوبارہ بحال کردیا۔‘‘
ناز صاحب کو ہمیشہ اپنوں اور غیروں سب نے تختہ مشق بنایا مگر، مجال ہے کہ اس مرد آہن کے پایہِ استقامت میں لغزش آئی ہو۔ ہر جبر کا مقابلہ انہوں نے حوصلے ہمت اور جرات کے ساتھ کیا۔ اس وقت لاہور کے نوے فیصد صحافی ناز صاحب کے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودے ہیں، نہ صرف لاہور بلکہ پورے ملک میں موجود صحافی اسی محسن کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ جس کا پھل ساری قوم حاصل کر رہی ہے۔ ان کی نماز جنازہ میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہر شاگرد اپنے محسن کے کوچ کرنے پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ پروفیسر کالونی کے ای بلاک سے جاگنگ ٹریک تک تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔
ڈاکٹر ناز گزشتہ کچھ عرصے سے شوگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ جو بالآخر ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔ صحافت کا ناز احسن اختر ناز اپنی ابدی منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔ بوجھل دل کے ساتھ ای بلاک سے وی سی گراؤنڈ اور پھر قبرستان میں بھی اپنے محبوب معلم کو واپس نہیں لا پایا۔ اپنے ہاتھوں سے خاک کا پیرہن پہنا کر آگیا۔ ڈاکٹر احسن اختر ناز کے انتقال سے ابلاغیات کا شعبہ ایک شفیق اور ہر دلعزیز استاد سے محروم ہوگیا ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
(آمین)

علم کے دیار کو ایک لیڈران چاہیئے

سیدامجدحسین بخاری
قوموں کی ترقی اور خوشحالی، اتحاد و اتفاق اور باہمی پیار و محبت تعلیم کے مرہون منت ہے، معاشرے مثالی تب بنتے ہیں جب ان میں برابری کی بنیاد پر تقسیم ہو۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس میں رہنے والوں کے رنگ و زباں، اقدار و روایات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ اس کے شہریوں کو برابر بنانے کے لئے قومی اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے۔ مگر قومی اتحاد و اتفاق تو درکنار قومیت اور نسل کے یہاں پر بلند و بانگ نعرے بلند ہوتے ہیں، سندھی، بلوچی، پنجابی، پختون اور مہاجر میں ساری قوم بٹی ہوئی ہے۔ اس میں ستم بالائے ستم یہ لوگ بھی مزید تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ تعلیم ہی ایک ایسا شعبہ ہے جو قوم کو متحد کر سکتی ہے۔ مگر افسوس کہ اس وقت ملک میں 26 قسم کے نظام ہائے تعلیم رائج ہیں۔

پاکستان میں رائج نظام میں 3 نظام قابل ذکر ہیں۔
سرکاری تعلیمی ادارے ، نجی تعلیمی ادارے، مدارس
ان 3 اداروں کی بھی آگے مزید تقسیم ہے۔ ملک میں تقسیم کے در تقسیم کے عمل نے قوم کو عجب کشمکش میں مبتلا کردیا ہے۔ قوم کو یک جان کرنے کے لئے ہمیں نظام تعلیم کو یکساں کرنا ہوگا اور اِس حوالے سے چند تجاویز پر عمل کیا جائے تو یکساں نظام تعلیم رائج ہوسکتا ہے۔
نصاب
نظام تعلیم کی بہتری اس کے نصاب کے مرہون منت ہوتا ہے، اس کے ذریعے سے قوم کو مطلوبہ رنگ میں رنگا اور اسے بنایا اور بگاڑا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں قوم عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کرتی آئی ہے کہ پورے ملک میں گوادر سے کشمیر تک ایک ہی نظام تعلیم ہو۔ اِس میں سب سے اہم شرط نصاب کی ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی تعلیمی نصاب ہو۔ یہ نصاب قومی نظریہ، اقدار اور تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ آئینی ترمیم کے ذریعے تعلیم کا شعبہ مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کردیا تھا اور حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے صوبے شطرِ بے مہار کی طرح بے قابو ہوگئے۔
غیر ملکی این جی اوز کے اشارے پر تعلیم کو این جی اوز کے حوالے کردیا اور ان این جی اوز نے اپنی مرضی سے نصاب میں تبدیلیاں کرنا شروع کردی جس کی وجہ سے بہت سارے اختلافی مضامین کتابوں میں شامل کئے گئے۔ اگر نصاب سازی کا اختیار صرف وفاق کے پاس ہو اور ایک ہی ادارہ اس کی نگرانی کرے تو قوم کو یکساں نصاب دیا جاسکتا ہے جو معاشرتی اقدار اور جدید نظام کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہو، تمام نجی تعلیمی اداروں، مدارس اور سرکاری تعلیمی اداروں میں وہی نصاب رائج کیا جائے۔
قومی زبان
قوموں میں قومی جذبہ پروان چڑھانے کے لئے قومی زبان بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکہ میں 82 بڑی قومیں اور زبانیں ہیں، لیکن سب کو متحد کرنے کے لیے ایک قومی زبان، انگلش کو قومی درجہ دیا گیا ہے اور اسی میں تعلیم دی جاتی ہے یا اسی طرح جیسے فرانس، جرمنی، جاپان، روس، چین اور سری لنکا وغیرہ میں تعلیم قومی زبان میں دی جاتی ہے۔ ہماری بھی اپنی قومی زبان ہے جسے شمال سے جنوب تک تمام علاقائی زبانوں کے لوگ سمجھتے اور بولتے ہیں، لیکن ہماری قوم کا بچہ کوئی بھی نصاب پڑھتا انگریزی میں ہے پھر اسے اردو میں ترجمہ کرتا ہے جبکہ سمجھتا وہ اپنی علاقائی زبان ہی میں ہے۔
قوم کو تقسیم کرنے میں اور نظام تعلیم کی تباہی میں زبان کا بنیادی کردار ہے۔ انگریزی کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ہم انگریزی کے بنا ترقی کے مدارج طے نہیں کرسکتے مگر ان عقل سے بیزار لوگوں کو کون سمجھائے کہ چین، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے اپنی ہی زبان میں تعلیم دے کر ترقی کی ہے۔ انگریزی کی اہمیت کو اگر مان بھی لیا جائے تو اسے تعلیمی اداروں میں بطور اختیاری مضمون پڑھایا جائے۔ قومی زبان چونکہ قومی رابطے کا ذریعہ ہے اس لئے اس میں تعلیم دینے کے اقدامات کئے جائیں۔
یکساں سہولیات
یکساں نظام تعلیم سے مراد یہ بھی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کو یکساں سہولیات فراہم کی جائیں۔ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ انتہائی کسمپرسی اور لاچاری میں علم کی پیاس بجھا رہے ہوتے ہیں، جبکہ ان مدارس کی حالت حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں کی حالت سے بھی قطعًا مختلف نہیں۔ عمارتوں کا فقدان ہونے کے باعث اساتذہ قبرستانوں اور کھلے آسمانوں تلے ساقیانِ علم کی تشنگی کم کر رہے ہوتے ہیں جہاں عمارت ہے وہاں کمروں کا فقدان ہے، بجلی پنکھے نہیں ہیں، فرنیچر کی کمی ہے، واش رومز اور پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولیات ناپید ہیں، اس حوالے سے این جی اوز اور سرکاری سطح پر جاری کی گئی رپورٹس معاون حکومتی کارکردگی کا پول کھول رہی ہیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے دانش اسکولوں کو کروڑوں کی گرانٹ دی جارہی ہے، جبکہ لاہور جیسے شہر میں بھی ایسے پرائمری اسکول موجود ہیں جنہیں 3 سو سے 5 سو بچوں کو پڑھانے کے لئے ایک یا دو اساتذہ میسر ہیں۔ اِس کے برعکس نجی تعلیمی ادارے جہاں والدین کی جیبوں پر چھریاں چلاتے ہیں وہیں انہیں بہتر تعلیمی سہولیات دینے کی کوشش کرتے ہیں، ایسی صورت حال اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی ہے۔ نجی تعلیمی ادارے پیسہ کمانے والی فیکٹریاں بن گئے ہیں جبکہ سرکاری جامعات بھی صوبوں کے حوالے کردینے سے خسارے سے دو چار ہیں جس کو پورا کرنے کے لئے فیسوں میں ہر سال بے تحاشہ اضافہ کیا جاتا ہے۔ حکومت کے لئے لازمی ہے کہ وہ تعلیم کی سرپرستی کرے اور غریب اور امیر سب کے لئے یکساں تعلیمی سہولیات دے۔
مخلوط تعلیم کا خاتمہ
پاکستان میں مذہبی رجحانات کے حامل افراد کی اکثریت ہے، جب کہ سرکاری اور نجی سطح پر مخلوط تعلیمی ادارے قائم کئے جا رہے ہیں۔ اِس وقت حکومت پنجاب ساڑھے 5 ہزاربچوں اور بچیوں کے اسکولوں کو ضم کرچکی ہے اور مزید اسکول ضم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ علیحدہ تعلیم حاصل کرنا خواتین کا حق ہے اور انہیں اپنی مرضی کے آزادانہ ماحول میں  فطری انداز کے مواقع فراہم کئے جائیں تو زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ بھارت میں خواتین کے لئے الگ جامعات کی وجہ سے ان کی کارکردگی بہت بہتر ہے اور پاکستان میں خواتین کے کالجز کی کارکردگی بوائز کالجز سے بہتر ہے۔ خواتین کے لئے الگ تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کے تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ والدین ایک انجانے خوف میں مبتلا ہوکر اپنی بیٹیوں کو مخلوط تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجتے، اس لئے میری ذاتی رائے ہے کہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے مخلوط نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جانا چاہئیے۔
یکساں نظام
ملک میں اِس وقت ہر طبقے کے لئے الگ الگ تعلیمی ادارے قائم ہیں، مدارس میں پڑھنے والے طلبہ ساری عمر احساسِ کمتری میں مبتلا رہتے ہیں، معاشرے میں انہیں عزت کا مقام نہیں دیا جاتا جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو معاشرے میں مناسب مقام نہیں مل پاتا۔ بیورو کریسی، عدلیہ اور اسمبلی میں نجی اور مہنگے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد کو ہی جگہ ملتی ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ ساری زندگی معاشرتی عدم توازن کی اس چکی میں پستا رہتا ہے جس کی وجہ سے نفرتیں بیج پکڑتی ہیں۔ ظلم راج کرتا ہے، بدامنی کو فروغ ملتا ہے اور عدم برادشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔
یکساں نظام تعلیم قوم کو تسبیح کے دانوں کی مانند جوڑ کر رکھتا ہے، پیار بانٹتا ہے، خوشیاں تقسم کرتا ہے، برادشت، امن، خوشی اور محبت کا موجب بنتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں نظریہ پاکستان سے آہنگ نظام تعلیم نافذ کیا جائے اور ایک مستقل قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے لئے یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے۔ انٹرمیڈیٹ تک دینی و دنیاوی تعلیم کے امتزاج سے ایسا نصاب تعلیم تشکیل دیا جائے کہ جس کے تحت قرآن و حدیث کی تعلیم ہر طالب علم کے لئے لازمی ہو اور دینی مدارس کے طلبہ کو انگریزی، ریاضی و دیگر علوم کی تعلیم دی جائے۔ اْردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی اور علاقائی زبانوں کو ترقی کے بھرپور مواقع فراہم کئے جائیں۔ فنی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اعلیٰ و پیشہ ورانہ تعلیم کے اداروں میں غریب گھرانوں کے میرٹ پر آنے والے طلبہ و طالبات کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، شرح خواندگی کو 5 سال میں 100 فیصد کرنے کے لئے میٹرک تک تعلیم مفت اور لازمی کی جائے۔ قوم کے اس مطالبے پر حکومت کو بھی کان دھرنے چاہیں۔
علم کے دیار کو ایک لیڈران چاہیے
اک نظام، ایک نصاب اک زبان چاہیئے 

Sunday, 28 July 2019

بھائی چارہ اور تلور کا شکار

سیدامجدحسین بخاری
یہ بادشاہی مسجد کا منظر ہے، عالمِ اسلام کی ساری قیادت ایک امام کے پیچھے قیام میں کھڑی ہے، باہمی محبت و اخوت، بھائی چارے اور اسلام کے لازوال بندھن میں بندھے یہ سارے قائدین پاکستان کی دعوت پر اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہیں۔ امام السلاطین محترم عبدالقادر آزاد کی پیروی میں تمام سربراہان سربسجود ہیں، نہ کوئی کینہ، بغض اور نہ ہی دل میں کھوٹ، عالم اسلام کا یہ جذبہ قابل دید ہے، لاہور شہر دُلہن کی طرح سجا ہوا ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد اعتماد، اتحاد، یگانگت اور بھائی چارہ ہے۔ یہ وہ داستانیں تھیں جو بچپن سے اسلامی ممالک سے پاکستان کے تعلقات کے بارے میں سنی تھیں، ’’نیل کے ساحل سے تابہ خاک کاشغر‘‘ کے نغمے ہمیں کتابوں میں رٹائے جاتے اور گھروں میں سکھائے جاتے تھے، نصابی کتابوں کے جھنجٹ سے فرصت میسر آئی تو ممالک کے تعلقات کو پڑھنا شروع کیا جنہوں نے میرے اندر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے عقیدت کا جو بت بنا ہوا تھا اسے چکنا چور کردیا۔

اس تمام تر پروپیگنڈا میں میرے ذہن میں اسلامی ممالک کے احترام کا رشتہ کم نہ ہو سکا، مگر اگست کے مہینے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے جواب میں وزارت داخلہ کے موقف نے مجھے حیرت و استعجاب کی کیفیت میں مبتلا کردیا، اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک فیصلے کے تحت پاکستان میں تلور کے شکار پر پابندی عائد کردی تھی، سرکاری طور پر موقف سامنے آیا کہپاکستان سے خلیجی ممالک کے تعلقات کی بنیاد تلور کا شکار ہے، یقین مانیں اس سے قبل میں جذبہ اتحاد و یگانگت اور بھائی چارے کو ہی تعلقات کی بنیاد سمجھتا تھا۔
اس فیصلے کے بعد کے منظر نامے سے پہلے آپ کو تلور کے بارے میں بتاتا چلوں۔ ماہرین کے مطابق تلور ایک ہجرت کرنے والا پرندہ ہے جو کہ روسی سائیبریا اور گرد و نواح کے علاقوں سے سردیوں میں بلوچستان اور پاکستان کے بعض دیگر علاقوں کا رخ کرتا ہے۔ تلور، بسٹرڈ نسل کے پرندوں میں سے ہے جس کا بائی نومئیل نام (Chlamydotis undulata) ہے۔ یہ پرندہ صحرائی علاقوں میں جا کر انڈے دیتا ہے اور اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے اور انہیں دنوں میں اس کا شکار کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اس پرندے کا جس بڑے پیمانے پر شکار کیا جاتا ہے اس سے اس کی نسل معدوم ہونے کا حقیقی خطرہ ہے، اس پرندے کو عالمی سطح پر معدومی کے خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کیا جاچکا ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد صرف 97000 رہ گئی ہے۔
جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے تو شروع دن سے ہی اس پرندے کے شکار کے خلاف تھے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران اس پرندے کے شکار کو ملک معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ہر سال مختلف خلیجی ریاستوں سے عرب شیوخ اور شہزادے نایاب نسل کے اس جانور کا شکار کرنے پاکستانی صحرائی علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔ وزارتِ داخلہ انہیں شکار کے لئے اجازت نامے جاری کرتی ہے اور صوبائی حکومتیں ان شیوخ کے آرام و راحت اور سیکیورٹی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان شہزادوں کے لئے تلور کا شکار کرنے کی ایک خاص حد مقرر ہے لیکن اس کی مانیٹرنگ کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں ہے جس کے نتیجے میں یہ اندازہ بالکل نہیں ہے کہ ہر سال کتنے پرندے شکار کئے جاتے ہیں۔ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے اہلکاروں کو مخصوص تعداد میں پرندوں کا شکار کرنے کی پابندی پرعمل درآمد یقینی بنانا ہوتا ہے لیکن محکمے کے اہلکاروں کو ان عرب شیوخ کے کیمپوں کے قریب بھی نہیں جانے دیا جاتا جس کے نتیجے میں عمل درآمد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حکومت کی جانب سے ایک اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عرب شیوخ کی آمد سے ان علاقوں میں ترقی، خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق عرب شکاری جتنے بھی پرندوں کا شکار کرتے ہیں اس کی ایک بھاری قیمت وہ محکمہ وائلڈ لائف کو ادا کرتے ہیں اور اگر دیگر اخراجات بھی ڈالے جائیں تو انہیں ایک پرندہ 10 سے 20 لاکھ میں پڑتا ہے۔ عرب شیوخ نے اپنے لئے ان علاقوں میں عالیشان محلات تعمیر کروائے ہیں جبکہ وہاں کے غریب لوگوں کو راضی رکھنے کے لئے انہیں وظائف، مفت علاج معالجے کے لئے اسپتال اور چند اسکول بھی تعمیر کرکے دئیے ہیں۔
اگست میں پابندی لگنے کے ساتھ ہی بعض میڈیا چینلز اور اخبارات کی جانب سے تواتر کے ساتھ شکار پر پابندی کے خلاف خبریں شائع اور نشر کی جا رہی ہیں، لوگ مظاہرے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں بھوک افلاس سے مجبور بچوں پر کیمرے گھمائے جار ہے ہیں۔ تھوڑی سی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی اس رپورٹنگ سے اندازہ کرسکتا ہے کہ تلور کے شکار کا فائدہ دراصل ’’کسے‘‘ ہو رہا ہے۔ ایک طرف تلور کے شکار کا فائدہ عرب شہزادوں کو تو ہو ہی رہا ہے، اِس طرح اُن کو ذہنی سکون اور عیاشی کے ساتھ ساتھ اپنے غلاموں سے داد تحسین وصول کرکے انہیں آسودگی مل ہی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب وڈیروں، جاگیرداروں اور ٹھیکداروں کو لاحاصل فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ ان شہزادوں کی خوشنودیاں حاصل کرنے کے لئے بھرپور جدوجہد کرتے ہیں اور اس معاملے میں وہ ایک دوسرے سے سبقت لینے کی جستجو میں رہتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں تلور کے شکار کی آڑ میں بلا شرکت غیرے اپنے اقتدار اور جاگیروں کو توسیع دینے کا موقع میسر آتا ہے۔ میرے ذہن میں چند سوالات ہیں جن کا جواب مجھے بھی تلاش کرنا ہے اور قارئین سے بھی یہی درخواست کروں گا کہ وہ ان جوابات کو تلاش کرنے میں میری معاونت کریں۔
کیا اِن علاقوں کی ساری تعمیر و ترقی عرب شہزادوں کی عیش و عشرت اور تلور کے شکار سے منسلک ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو چین، پاکستان کا سب سے قریبی دوست ہے اسے بھی گلگت بلتستان کے پہاڑوں اور کشمیر کی وادیوں سے خزانے سمیٹنے کی اجازت کیوں نہیں؟ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی کھیل کر انسانوں کا شکار کر رہا ہے اور پاکستان خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ کیا پاکستان اپنی دوستی کو مضبوط بنانے کے لئے بھارت کو چھوٹ دے رہا ہے؟ کیا امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں اور سلالہ واقعے کے بعد خاموشی اپنی دوستی کو دوام بخشنے کے لئے تھی؟ کیا پاکستان میں بم دھماکوں کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال ہونا دوستی کا نتیجہ ہے؟ گوکہ ان سوالات پر آپ مجھے مخبوط الحواس سمجھیں گے مگر مجھے حکومت کے احمقانہ اقدامات اور میڈیا کے غیر ذمہ داران کردار پہ تعجب ہے۔
چند میل سڑک اور تھوڑے سے وظائف کے لئے اپنا ملک شہزادوں کے حوالے کردینا کہاں کی عقل مندی ہے؟ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں بے دریغ شکار کی اجازت دینا اور نایاب نسل کے جانوروں کی معدومی کے حوالے سے اقدامات نہ کرنا حکومت کی نا اہلی اور بزدلی ہی قرار دی جاسکتی ہے۔ خلیجی ممالک سے تعلقات کا یقینی فائدہ مقتدر حلقوں کو ہی حاصل ہو رہا ہے، مگر اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے معصوم پرندے کا استعمال نہ کیا جائے اور اُس کی نسل کو بچانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ عرب شہزادوں کے علاوہ مقامی نوابوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کو بھی لگام دی جائے تاکہ ملک کے حُسن کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔