مناظر

Showing posts with label جلتی کتابیں. Show all posts
Showing posts with label جلتی کتابیں. Show all posts

Saturday, 27 June 2015

قوم کے خادم ، قوم کے محسن

سرکاری ملازمت ہر فرد کا دلی ارمان ہوتا ہے ۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسے سرکار کی نوکری ملے ، وجہ یہ نہیں کہ عوام کی خدمت کریں ، بلکہ اس کے درپردہ وہ سہولیات ہیں جو حکومت ملازمین کو دیتی ہے، ہر سال تنخواہوں میں اضافہ، علاج معالجے کی مفت سہولیات 
بروقت تنخواہیں اور مدت ملازمت پوری ہونے پر پنشن کا مل جانا 
ملک میں اس وقت زیادہ تر ترقیاتی رقوم ملازمین کی تنخواہوں میں صرف ہوتی ہیں: فائل فوٹو

 اکبر الہ آبادی کا شعر ہے
           کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے ”
    بی اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی اور مرگئے 

اور اسی شعر کے مصداق سرکاری ملازمت صرف اپنی زندگی کی بیمہ پالیسی کا نام ہے۔ ہونا بھی چاہئے عوام کو ملازمت دینا حکومت کا اولین فرض ہے، شہری کو ضروریات زندگی کی بروقت فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں پبلک سروس ( سرکاری ملازمین کی عوامی خدمت ) کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد اچھی طرز حکمرانی اور ترقی کے عمل میں سرکاری ملازمین کے کردار کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔سرکاری نظام میں سرکای ملازمین بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ان کی دلچسپی اور ایمانداری سے سرکاری دفاتر میں بہتر ماحول بنتا ہے۔جسم میں جیسے شیریان کی اہمیت ہے اسی طرح سرکاری نظام بھی سرکاری ملازمین کی بڑی اہمیت ہے۔آج کے اس دور میںاداروں میں ملازمین کی سخت محنت اور دلچسپی ہی ادارہ کی کامیابی کی ضامن ہوتی ہیں۔ملک کی ترقی میں سرکاری ملازمین کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔سرکاری ملازمین اپنے آپ کو عوام کا خادم سمجھتے ہوئے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے انجام دیں اور ملک و ریاست کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ سرکاری نظام میں کتنے ملازمین آئے اور اپنی خدمات انجام دے کر ریٹائرڈ ہوگئے ۔عہدہ چاہے بڑا ہو یا چھوٹا سب مل کر اپنا کام سرانجام دیں گے تو ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا ۔ میں چاہ رہا ہوں کہ لکھوں ان لاکھوں نوجوانوں کے لئے جو ڈگریاں اٹھائے سرکاری نوکریوں کے حصول کے لئے دفاتر میں ذلیل و خوار ہو رہے ہوتے ہیں ، میرا من کہہ رہا ہے لکھوں سرکاری دفاتر میں آرام طلب کرسیوں پر بیٹھ کر عوام کو خوار کرنے والے ان احباب کے نام لکھوں جو عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر دفاتر میں ذلیل کرواتے ہیں اور تحریر کروں پاکستان کے ان سرکاری ملازمین کے نام جو مٹھی گرم ہونے سے پہلے کسی غریب کا کام نہیں کرتے۔ لیکن مجھے ان میں سے کسی موضوع پر لکھنے سے پہلے اپنے احباب پر نظر پڑھتی ہے میرا قلم رک جاتا ہے کیوں نہ رکے میرا سامنے میرے درجنوں دوست ہیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود سفارش اور مٹھی گرم کرنے کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے تاحال بیروزگار ہیں ۔ان کے بارے میں لکھوں گا تو میرے ان دوستوں اور احباب کی حق تلفی ہوگی جو رشوت اور سفارش کا پل باندھ کر سرکاری نوکر ہوئے ہیں۔


میں کیوں لکھوں گا اپنے ان عزیوں کے بارے میں جو میرے سامنے عوام کو ذلیل خوار کر رہے ہوتے ہیں اور ہاں مجھے نہیں لکھنا اپنے ان دوستوں اور رشتہ داروں کے نام بھی جو ہزاروں غریبوں کا خون نچوڑ کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہوتے ہیں ۔ تو سوچامیں آج صرف سرکاری ملازمین کی شان میں قصیدہ گوئی کروں گا۔ لیکن وہ وعدے جو ہم نے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران کئے تھے ، جو دعوے اپنے والدین کے سامنے کئے تھے ان کی پاسداری بھی تو کرنا لازمی ہے۔ کیا اچھی طرز حکمرانی اور ترقی کے عمل میں سرکاری ملازمین اپنا کردار ادا کررہے ہیں؟ ، کیا محکمہ پولیس کی کارکردگی ہمارے لئے سوالیہ نشان نہیں؟ کیاملکی ترقی میں ایک چوکیدار سے اعلیٰ عہدے پر براجمان بیورو کریٹ تک اپنے فرائض بہ احسن سرانجام دے رہے ہیں۔ میں شعبہ تعلیم کی جانب نظریں دوڑاتا ہوں تو ایک سرکاری اسکول کا معلم تیس ہزار سے زائد تنخواہ وصول کرکے اپنے نتائج درست دے رہا ہے؟ کیا دوسری جانب نجی اسکول میںپندرہ سو روپے سے دس ہزار تک تنخواہ لینے والا استاد سرکاری استاد سے بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہا ۔ کیا ہمارے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر ہسپتال میں کم اور اپنے نجی کلینک پر زیادہ وقت صرف نہیں کرتے؟ ہمارے پروفیسر کالجز میں وقت دینے کی بجائے اپنی اکیڈمیاں بنا کر تعلیم کا کاروبار نہیں کر رہے؟ میں کسی پر الزام تراشی نہیں کر رہا ، آپ اپنے اردگرد نگاہیں دوڑائیں ہر سرکاری محکمہ کرپشن ، بدعنوانی اور اقربا پروری سے بھرا ملے گا اور اس اس سے بالکل واضح ہے کہ محکمے افراد سے بنتے ہیں اور سرکاری محکموں میں کام کرنے والے افراد حکومت کے ملازم ہوتے ہیں، عوام اپنی جیبوں سے ٹیکس بھر کر ان کی سہولیات کے لئے رقوم دیتے ہیں اور انہیں قوم کے خادم ہونا چاہئے لیکن وہ قوم کا خون نچوڑنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے ضائع نہیں ہونے دیتے۔ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ سطح سے کبھی بھی اس کے خاتمہ کے سلسلے میں کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ملک پر مخصوص طبقات کی حکمرانی ہے جن کے اثاثے تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس قومی دولت نے عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی و خوشحالی کے لئے صرف ہونا ہے اس کا خطیر حصہ ان مخصوص طبقات کی مراعات وہ ان کے مفادات کی نذر ہو جاتا ہے ۔لیکن ان محکموں کی نگرانی اور ان کا احتساب حکومت کی ذمہ داری ہے ، کیوں کہ اگر حکمران ملک و قوم کے مفاد کے لئے کام کریں گے تو سبھی محکمے درست سمت پر روانہ ہوں گے۔ سرکاری ملازمین ملک کا ایک بہترین سرمایہ ہیں ، ان کی اصلاح اور نگرانی کے لئے مثر نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت کو موثر پالیسی سازی کے ذریعے ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا جن کا اس وقت ملک کو سامنا ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں نظام کو موثر بنانا ہوگا۔ اور خود احتسابی کے ذریعے ان معاملات کا جائزہ لینا ہوگا۔ جو نظام کی راہ میں رکاوٹ اور ہماری ناکامی کا باعث بنے ہیں کا حل نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ کو مثرپالیسی بنانا ہوگی اور سرکاری ملازمین کو اس کی پالیسیوں پر مکمل طور سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ اور سیاسی قائدین عوام اورمملکت کے مفاد میں پالیسیاں وضع کرتے ہیں مسائل کے حل کے سلسلے میں نظام کو موثر بنانے کی بات اسی وقت کی جا سکتی ہے جب سیاسی قائدین اور حکومتوں کے ہاتھ صاف ہوں لیکن جب وہ بدعنوانیوں سے آلودہ ہوں اور احتساب کے نظام کو دانستہ مضبوط نہ بنائیں تو ایسے میں عوام کے ساتھ کیونکہ انصاف کیا جاسکتا ہے۔جب تک اس استحصالی اور فرسودہ نظام کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک عوام کے مفادات اور ان کی ترقی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔آج اس عالمی دن پر جہاں سرکاری ملازمین کے سینوں پر احسن کارکردگی کے تمغے سجائے جائیں گے وہیں ملک عزیز کے خادم اپنی گریبانوں میں جھانک کر ایک بار اللہ سے عہد کرلیں کہ اپنے فرض سے غداری نہیں کریں گے اپنے ملک کی خدمت کو اپنا فرض عین جانیں گے اور اپنے اہل وطن کو رشوت ، کرپشن ، لوٹ مار اور اقرباءپروری کی لعنت سے پاک معاشرہ بنا کردیں گے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب سب سچے دل سے فرض نبھائیں گے۔

Wednesday, 17 June 2015

این جی اوز اور بھولا پاکستان

International charity Save the Children was banned from Pakistan for "working against the country", according to its federal interior minister.
















پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے دنیا بھر کو پیغام دینا چاہئے کہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کسی کو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزات داخلہ این جی اوز کے آڈٹ کو یقینی بنائے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز کے خلاف کارروائی کرے ، این جی اوز پاکستان کو بھولا بھالا ملک سمجھ کر یہاں اپنے آزادی کا جشن نہ منائیں
ضرب عضب کاایک سال کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے ، اس میں پاک فوج کی جوانوں کی قربانیاں ، قوم کی ہم آہنگی اور آئی ڈی پیز کی استقامت مبارکباد کی مستحق ہے، دوسری جانب
 پاکستان کی ازلی دشمن بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے حکومت کی سنجیدگی بھی لائق تحسین ہے مگر پاکستان کا دفاع صرف اندرونی اور بیرونی طور پر مسلح حملوں کو ناکام بنانے 
کا نام نہیں بلکہ پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قومی ہم آہنگی کو مجروح کرکے بھی قوم و ملک کو کمزور کیا جا رہا ہے، اس میں ایک بڑا ہاتھ ملک میں بڑھتا ہوا این جی اوز کلچر ہے اس کی مثالیں آئے روز پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آرہی ہیں ، گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی مگر موجودہ حکومت کے راست 
اقدامات داد تحسین کے مستحق ہیں۔
اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے کارکنان تعلیمی اداروں کو این جی اوز کے حوالے کرنے کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں 

ملک کے نوجوانوں کو روشن خیالی کا خوبصورت خواب ، عورتوں کو نام نہاد آزادی کے نام پر پر موشن پروڈکٹ بنانا، اولاد کو والدین سے بیگانہ کرنا ، مادیت پرستی کا خواب ، میڈیا کی آزادی اور دولت کا لالچ این جی اوز کا بنیادی ہتھیار ہے۔ ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی اصطلاح متعارف کراکے قوم میں تفریق ڈالی گئی۔پولیو ٹیموں پر حملے ، عورتوں پر نام نہاد تشدد کی ویڈیوز کی شوٹنگ اور غیر ملکیوں کے ذہنوں پر پاکستان کا دہشت گردانہ تصور دینا ، سیاحوں پر حملے کرا کے یہاں سے سیاحت کی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ، چند ایک واقعات کو بنیاد بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے روکا جانا بھی پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے کا ایک راستہ ہے۔ پاکستان میں این جی اوز کا طوفان 2005ءمیں خیبر پختونخواہ اور کشمیر میں آنے والے قیامت خیز زلزلے کے بعد آیا ۔ اس وقت کی حکومت نے این جی اوز کو بلا تحقیق رسمی کارروائی کے بعد شتر بے مہار کی مانند آزاد چھوڑ دیا جس کے باعث بین الاقوامی حکومتوں نے این جی اوز کی آڑ میں اپنے درپردہ مقاصد کو ہوا دی، اس وقت کی میڈیا رپورٹس کے بعد بعض امریکی این جی اوز میں بلیک واٹر کے اہلکاروں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی مگرحکومت کی جانب سے اس پر کوئی توجہ دی گئی نہ ہی تحقیق و غور کی زخمت گوارہ کی گئی۔جبکہ بعد ازاں ملک میں آنے والے سیلابی ریلوں اور تھر کے قحط کے بعد این جی اوز اتنی بڑی تعداد میں ملک میں وارد ہوئیں کے انہیں سنبھالنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا۔پاکستان میں میڈیا رپورٹس کے مطابق 380این جی اوز کا کردار مشکوک ہے جن میں 13بین الاقوامی این جی اوز شامل ہیں۔جبکہ ایک لاکھ سے زائد این جی اوز ملک میں کام کر رہی ہیں۔ان این جی اوز نے جہاں ملک کو اخلاقی طور پر زوال کا شکار کیا وہیں معصوم اذہان کو مسلمان تہذیب اور اسلامی اقدار سے دور کرنے کے لئے نصاب میں تبدیلیوں کے لئے بڑے پیمانے پر فنڈز جاری کئے، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ملک یا قوم کسی دوسرے ملک کو بڑے پیمانے پر فنڈز کیوں دے؟ اور پاکستان میں تو جیسے فنڈز کا سونامی بہایا جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے ان ممالک یا اقوام کا مخصوص ایجنڈا کار فرما ہے جس کو پورا کرنے کے لئے وہ این جی اوز کا سہارا لے رہے ہیں۔گذشتہ دنوں ایک این جی او ”سیو دی چلڈرن “ کی سرگرمیوں پر ملک میں پابندی عائد کی گئی جو کہ پاکستان کی سالمیت اور بقا ءکے خلاف کا م کر رہی تھی اس موقع پر وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے واضح طورپر کہا ہے کہ پاکستان میں کسی این جی او کو ملکی مفادات کیخلاف کامکرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ تمام مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کو پاکستان کے قوانین اور ضوابط کا احترام کرنا ہوگا۔ پچھلے کئی سال سے یہ مادر پدرآزاد کام کر رہی تھیں لیکن اب ان سب کو جان لینا چاہئے کہ ان کو مروجہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل پاکستان میں غیرقانونی کام کرنیوالی این جی اوز کی حمایت کرتے ہیں۔ کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے اپنے گھناو

¿نے مقاصد کی تکمیل کیلئے پاکستانی معاشرے سے ایسے افراد کی خدمات حاصل کی ہیں جو یا تو سابق سیاستدان ہیں یا انکا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔یقینا وزارت داخلہ یہ اقدام بالکل درست اور بروقت ہے اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں پاکستان میں اس سے قبل بھی متعدد بار غیر ملکی این جی اوز پر پابندیاں عائد کی گئیں تھیں کراچی میں کام کرنے والی 
این جی اوآئی میپ کے دفتر پر چھاپے کے بعد مختلف حساس جگہوں کے نقشے برآمد ہونے کے بعد اسے پاکستان میں BANکردیا گیا تھا۔ سیو دی چلڈرن پرپابندی کے بعد وزارت داخلہ 
کی جانب سے پوری دنیا کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اپنے چارٹر کے اندر رہ کرکام کرنیوالی این جی اوز کے کام پر کوئی قدغن نہیں لیکن اس دائرے سے باہر کسی کو کام نہیں کرنے دیا 

جائیگا۔لیکن پابندی کے بعد وزیر اعظم پاکستان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چھے ماہ تک این جی اوز کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دے دی جائے، جناب اعلیٰ انہیں چھ ماہ تک کس بنیاد پر کھلی چھوٹ دی جائے گی، سیو دی چلڈرن پر پابندی کے بعد جو خدشات پاکستانی میڈیا اور عوام کے ذہنوں پر مسلط تھے کہ کہیں سابقہ ادوار کی طرح اس بار بھی” کہیں “سے کوئی واضح پیغام تو نہیں مل جائے گا۔ کیا وہ خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں ؟ کیا ہماری خارجہ اور داخلہ پالیسی پارلیمنٹ کی بجائے ”کہیںاور“ بنائی جاتی ہے؟ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست نہیں ہے؟ ایوان اقتدار میں تشریف فرما انتہائی قابل احترام ممبران و وزراءکرام خدارا قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں ۔ اس قوم نے تمام قربانیاں اپنی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی بقاءکی لئے دی ہیں۔ان قربانیوں کو محض ڈالروں کی بندش کی خوف سے بند نہ کریں پوری دنیا کو جرات مندانہ پیغام دیں گے اس ملک کی قیادت اور عوام غریب ضرور ہیں مگر وہ بھکاری اور بزدل قطعاََ نہیں ہیں۔ اس قوم نے ”گھاس کھا .... ایٹم بم بنا “ نعرے کی پاسداری کی ہے۔ اسی قوم نے اپنے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا جرات اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ اس قوم کے جذبات کا احترام کریں ۔پوری دنیا کو پیغام دیں کہ قومی مفادات میں کسی این جی او پر پابندی لگانے کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے غیروں نے نہیں۔بہت سے بیرونی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ہمارے ارکان پارلیمنٹ کو ان کی پالیسی کے خلاف بیان دینے پر ویزے تک نہیں دیئے۔ 

یہ ان کا اختیار ہے۔ ہم ان کی خود مختاری اور حق کو تسلیم کرتےہیں لیکن وہ بھی ہمارے اختیاراور حق کو بھی تسلیم کریں۔ این جی اوز کو فنڈنگ بے شک بیرون ملک سے ہوتی ہے لیکن کام تو وہ یہاں کر رہی ہیں۔ جو رجسٹرڈ ہو گی اور چارٹر کے اندر کام کرے گی وہی این جی او یہاں کام کر سکے گی۔ پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر اقوام متحدہ نے 2 این جی اوز کی مشاورتی حیثیت ختم کردی ہے۔ افریقن ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ لنک اور افریقن ٹیکنیکل ایسوسی ایشن پاکستان کے خلاف غلط بیانی کے لئے پلیٹ فارم مہیا کررہی تھیں۔ پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کی این جی اوز کمیٹی میں اٹھایا تھا۔ پاکستان نے شکایت کی تھی کہ یہ این جی اوز مہران بلوچ کے ساتھ کام کررہی تھیں اور انہیں پاکستان کے خلاف الزامات لگانے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کررہی تھیں۔ افریقن ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ لنک کے خلاف درخواست پر اقوام متحدہ کی این جی اوز کمیٹی میں رائے شماری ہوئی، جس کا پاکستان بھی رکن ہے۔ پاکستان کے موقف کے حق میں 12اور مخالفت میں 5ووٹ آئے جبکہ افریقن ٹیکنیکل ایسوسی ایشن کے خلاف درخواست پر 13ووٹ پاکستان کے حق میں اور 5 ووٹ مخالفت میں آئے۔ درخواست میں ووٹنگ کے بعد اقوام متحدہ میں ان این جی اوز کی مشاورتی حیثیت ختم کردی گئی ہے اور اب یہ این جی اوز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو سفارشات نہیں دے سکیں گی۔ رائے شماری کے دوران بھارت اور اسرائیل سمیت 5 ممالک نے ان این جی اوز کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے پاکستانی موقف کی مخالفت کی جبکہ چین، ایران، روس اور ترکی سمیت 13 ملکوں نے پاکستان کی حمایت کی۔یہاں ایک بات قابل غور بھی ہے کہ بعض این جی اوز صرف اسلام آباد کیلئے رجسٹرڈ تھیں وہ بغیر اجازت بلوچستان پہنچ جاتی تھیں۔ پنجاب میں کام کرنے والی این جی اوز خیبرپی کے اور قبائلی علاقہ جات تک جاپہنچیں۔ انہیں کھلی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ این جی اوز کی آڑ میں غیرملکی ایجنڈا کو پروان چڑھانا کی کوششیں کی جارہی ہیں۔حکومت پاکستان کو این جی اوز کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے کسی بھی قسم کا بیرونی دبا قبول نہیں کرنا چاہیے ، پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے دنیا بھر کو پیغام دینا چاہئے کہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کسی کو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزات داخلہ این جی اوز کے آڈٹ کو یقینی بنائے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز کے خلاف کارروائی کرے ، این جی اوز پاکستان کو بھولا بھالا ملک سمجھ کر یہاں اپنے آزادی کا جشن نہ منائیں